بھائیوں کو بولنگ کراتے کراتے قومی ٹیم کی فاسٹ بولر بن گئی، فاطمہ ثناء

کراچی: پاکستا ن ویمن کرکٹ ٹیم کی ابھرتی ہوئی فاسٹ بولر فاطمہ ثنا نے کہا ہے کہ گلی میں بھائیوں اور ان کے دوستوں کو بولنگ کراتے کراتے پاکستان کرکٹ ٹیم کی فاسٹ بولر بن گئی، خواہش ہے کہ ان کا شمار ویمن کرکٹ کی بہترین فاسٹ بولرز میں ہو۔اپنے ایک انٹرویو میں18سالہ فاطمہ ثنا ء نے بتایا کہ انہوں نے کراچی کے علاقے ناظم آباد کی گلیوں میں کرکٹ کھیلنا شروع کی، وہ بھائیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتی تھی اور ان کی ڈیوٹی ہوتی کہ بس بولنگ کراتے رہنا، بیٹنگ نہیں ملتی تھی اور یوں بولنگ کرتے کرتے آج وہ پاکستان ویمن ٹیم کی بولر بن گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ گلی اور سڑک پر کھیل کر انہوں نے بہت کچھ سیکھا اور بولنگ کے بہت سے گر جان لیے ہیں۔فاطمہ ثنا کو اس سال مئی میں ڈیانا بیگ کے انجرڈ ہونے کے بعد پاکستان ویمن ٹیم میں بیک اپ کے طور پر شامل کیا گیا تھا، جنوبی افریقا میں انہوں نے اپنی تباہ کن بولنگ سے سب کو متاثر کیا۔اس سال ثنا نے ویمن ایمرجنگ ایشیا کپ بھی کھیلا اور اب ملائیشیا میں انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے ان کو اسکواڈ میں منتخب کرلیا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں فاسٹ بولر نے کہا کہ پاکستان کے محمد عامر اور انگلینڈ کے جیمز اینڈرسن ان کے پسندیدہ بولرز ہیں لیکن وہ جیمز اینڈرسن کو زیادہ فالو کرتی ہیں اور ان ہی کے جیسا بننا چاہتی ہیں۔پاکستان ٹیم میں شامل ہونا فخر کی بات ہے، ثنا میر، جویریہ خان، بسمہ معروف جیسی پلیئرز کے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور جب وہ ان کے کیرئیر کے آغاز کی کہانیاں سنتی ہیں تو انہیں اور محنت کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔فاطمہ ثنا کہتی ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ ثنا میر کے بعد وہ دنیا بھر میں ان کی طرح پاکستان کا نام روشن کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں