جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل، کیس سے متعلق تمام پٹیشنز خارج، فیصلہ جاری

اسلام آباد : چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا تے ہوئے تمام پٹیشنزکوخارج کر دیا اور کہا ہے کہیہ مرحلہ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کورٹ ویڈیو اور اس کے اثرات میں مداخلت کرے، جج ارشد ملک کی 7 جولائی کی پریس ریلیز اور 11 جولائی کا بیان حلفی ان کے خلاف فرد جرم ہے، معاملے کی تحقیقات پر حکومت یا عدالت کی طرف سے کسی کمیشن کے قیام کی رائے کا کوئی فائدہ نہیں، جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا، جج ارشد ملک کا ماضی مشکوک رہا، انہوں نے اپنے پریس ریلیز اور بیان حلفی میں اعتراف کیا، جج ارشد ملک اپنے ماضی کی وجہ سے بلیک میل ہوتا رہا، مجرموں اور ان کے اہلخانہ سے ملاقاتیں کرتا رہا، ان کے کردار سے اعلی عدلیہ کا سر شرم سے جھک گیا، ارشد ملک کی خدمات واپس نہ کرنے سے محکمانہ کارروائی نہ ہوسکی، اٹارنی جنرل نے ارشد ملک کو لاہور ہائیکورٹ واپس بھجوانے کا یقین دلایا، توقع ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں ارشد ملک کیخلاف انضباطی کارروائی ہوگی ۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا ۔جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال بھی بینچ میں موجود رہے۔25 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا ہے جسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری فیصلے میں چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس کیس میں 5 اہم سوال تھے۔پہلا سوال یہ تھا کہ کیا ویڈیو مستند ہے؟،دوسرا سوال یہ تھا کہ اگر ویڈیو مستند ہے تو اسے کس فورم پر کیسے ثابت کیا جائے؟،تیسرا سوال یہ تھا کہ ویڈیو کے نواز شریف کے کیس پر کیا اثرات ہوں گے؟،چوتھا سوال یہ تھا کہ ویڈیو کے جج کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟،پانچواں سوال یہ تھا کہ جج ارشد ملک کے رویے کو کس فورم پر دیکھا جائے گا؟،بعد ازاں سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ویڈیومستنداورمضمرات سے متعلق ابھی فیصلہ جاری کرنابہترنہیں، معاملہ پہلے ہی اسلام آبادہائیکورٹ میں ہے ابھی فیصلہ نہیں دے سکتے، ایف آئی ایکی جانب سے معاملے کی تحقیقات پہلے ہی جاری ہیں۔عدالتی فیصلہ میں کہا گیا کیس سے متعلق تمام پٹیشنزکوخارج کیاجاتاہے ، معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو لیکس کے معاملے پر ایف آئی اے نے تفتیش شروع کر دی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات پر حکومت یا عدالت کی طرف سے کسی کمیشن کے قیام کی رائے کا کوئی فائدہ نہیں۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا، ارشد ملک لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت ہیں جو ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ماتحت احتساب عدالت نمبر 2 میں تعینات ہوئے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ارشد ملک کو احتساب عدالت کے جج سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ ارشد ملک کو اب تک لاہور ہائی کورٹ نہیں بھجوایا گیا ہے اس لیے محکمانہ کارروائی کا ابھی آغاز نہیں ہوا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک کی 7 جولائی کی پریس ریلیز اور 11 جولائی کا بیان حلفی ان کے خلاف فرد جرم ہے۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا ماضی مشکوک رہا، انہوں نے اپنے پریس ریلیز اور بیان حلفی میں اعتراف کیا، جج ارشد ملک اپنے ماضی کی وجہ سے بلیک میل ہوتا رہا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ارشد ملک مجرموں اور ان کے اہلخانہ سے ملاقاتیں کرتا رہا، ان کے کردار سے اعلی عدلیہ کا سر شرم سے جھک گیا، ارشد ملک کی خدمات واپس نہ کرنے سے محکمانہ کارروائی نہ ہوسکی، اٹارنی جنرل نے ارشد ملک کو لاہور ہائیکورٹ واپس بھجوانے کا یقین دلایا، توقع ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں ارشد ملک کیخلاف انضباطی کارروائی ہوگی۔سپریم کورٹ نے 20 اگست کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سے متعلق ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں