بڑا سائبر حملہ ایٹمی حملے جتنا خطرناک ہے، سائنسدان

نیویارک : دنیا میں لوگوں کی اکثریت کو بڑھتی جوہری کشیدگی پر تشویش ہوگی لیکن شمالی ڈکوٹا یونیورسٹی کے پروفیسر جریمی اسٹراب نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں کسی بھی وقت بڑا سائبر حملہ اتنا ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جتنا کہ ایک ایٹمی حملہ۔ دی کنورزیشن میگزین میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں پروفیسر جریمی کہتے ہیں کہ سائبر حملہ بھی اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ ایک ایٹمی حملہ۔ اور دنیا بھر کے ہیکرز سائبر حملے کیلئے بنیاد رکھ رہے ہیں۔ روس اور امریکا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے معاہدے سے دستبرداری اور نئے ہتھیاروں کی تیاری کا اعلان اور اس کے ساتھ ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کو دیکھا جائے انسانی تہذیب کو خطرہ محسوس ہوتا نظر آئے گا۔ لیکن جوہری خطرات سے سائبر خطرہ بہت زیادہ ہے، اس خطرے کی شدت کو اسلئے محسوس نہیں کیا جا رہا کہ ہیکرز نے اب تک صرف غیر ملکی حکومتوں سے معلومات (ڈیٹا)کی چوری کا کام ہی کیا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ہیکرز نے وائرس امریکا کے بجلی اور پانی کے کمپیوٹرائزڈ نظام میں شامل کر دیے ہیں اور اب یہ سافٹ ویئرز کمانڈ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ امریکی فوج نے روس کے بجلی کے نظام کو ہیک کر لیا ہے۔ پروفیسر جریمی کہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار میں ایک جھٹکے سے ہزاروں لاکھوں لوگ ایک محدود دائرے میں مر جائیں گے لیکن سائبر حملے کے نتیجے میں لوگ سسک سسک کر اور سست روی سے خوراک، گیس اور بجلی کی قلت سے اور وسیع پیمانے پر مریں گے۔ سائبر حملے کے نتیجے میں چرنوبل کے جوہری پلانٹ جیسا حادثہ بھی رونما ہو سکتا ہے۔ اس واقعے میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے تاہم ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد اس علاقے سے محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے اور یہ علاقہ ہزاروں برسوں کیلئے ناقابل رہائش ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں