وزیراعظم باعزت طورپر استعفیٰ دیں اور گھر چلے جائیں بصورت دیگر عوام کی طاقت سے انہیں گھر بھیجاجائے گا،سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کامطالبہ

کو ئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے مطالبہ کیاہے کہ وزیراعظم عمران خان باعزت طورپر استعفیٰ دیں اور گھر چلے جائیں بصورت دیگر عوام کی طاقت سے انہیں گھر بھیجاجائے گا،جمعیت کے زیراہتمام 27اکتوبر کو کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف ملک بھر میں ریلیاں جبکہ 31اکتوبر کو کارکنان آزادی مارچ کیلئے اسلام آبادپہنچیںگے ،حکومت میں شامل وزراء سابقہ حکومتوں میں بھی تھے جنہیں گالی گلوچ کے علاوہ کچھ نہیں آتا،جمعیت کادھرنا پرامن ہوگا اور کسی بھی املاک کو نقصان نہیں پہنچایاجائیگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز جمعیت بلوچستان کے امیر ورکن قومی اسمبلی مولاناعبدالواسع ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرسیکرٹری اطلاعات دلاور خان کاکڑ ‘رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد نواز کاکڑ‘ سابق رکن اسمبلی انجینئر عثمان بادینی ‘ سابق وزراء سید مطیع اللہ آغا‘سردار یحییٰ خان ناصر‘ حافظ خلیل اور دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ 27 اکتوبرکو جمعیت کے کارکنان سڑکوں پر آئے گی جس کے بعد 31اکتوبر کو آزادی مارچ کیلئے کارکن اسلام آباد کا رخ کرینگے ،انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ملک کا بیڑہ غرق کردیاہے جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام آزادی مارچ کے سلسلے میں میڈیا پر کوریج کو سنسر کیاجارہاہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان آزادی مارچ کے شرکاء کی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے استعفیٰ دیکر باعزت طریقے سے گھر چلاجائے بصورت دیگر عوام انہیں اپنی طاقت سے گھر بھیجے گی ،کشمیر سے متعلق حکومت صرف مگرمچھ کے آنسو بہارہی ہے ،وفاقی کابینہ میں شامل وزراء سابقہ حکومتوں کے حصہ رہ چکے ہیں ،آزادی مارچ کے سلسلے میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ بھرپور ساتھ دینے کیلئے تیار ہے ،انہوں نے کہاکہ ہم میاں محمدنوازشریف کاشکریہ اداکرناچاہتے ہیں کہ جنہوں نے آزادی مارچ کی حمایت کردی ۔اس کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی ،پشتونخواملی عوامی پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ بھی رابطے جاری ہیں ،کسی بھی سیاسی جماعت کو آئینی اور جمہوری حق حاصل ہے اوراسی حق کو مدنظررکھتے ہوئے ہم آزادی مارچ کرنے جارہے ہیں ،ہمارا مارچ اور دھرنا مکمل طور پرپرامن ہوگا اور کسی بھی طرح کے املاک کو نقصان نہیں پہنچایاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے آزادی مارچ کے شرکاء کو روکنے کی حماقت کی گئی تو حکومت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا،حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں سے لیکر نوجوانوں ،ڈاکٹرز ،وکلاء ،انجینئرز اور تاجر مجبوراََ سراپااحتجاج بن گئے ہیں ،پاکستان بھر کے تاجروں کی جانب سے 28اور 29اکتوبر کو مطالبات کے حق میں شٹرڈائون ہڑتال اور اسلام آباد میں لاک ڈائون کرنے کااعلان کیاگیاہے اور آج کوئی بھی حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر موجودہ صورتحال میں وزیراعظم بضد ہوکر کرسی پربراجمان رہیںگے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے غریب عوام دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہے ،معیشت ڈوب گئی ہے اگر اسی طرح چلتا رہا تو عوام مجبوراََ حکومت کو زبردستی گھر بھیج دے گی ،انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں وزیراعظم کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف کی جانب سے تاجروں کو بلا یاگیا جس کو سیاست میں مداخلت سمجھتے ہیں اور یہ ان کیلئے اور ملک کیلئے درست نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ چیف آف آرمی اسٹاف ہو یا ملک کا کوئی بھی ادارہ اس نااہل حکومت اوراس کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچانے کی بجائے غیر جانبدار رہے ،جمعیت علماء اسلام سمیت ملک کے تمام سیاسی وجمہوری جماعتیں اداروں کا احترام کرتی ہیں اداروں کا بھی فرض بنتا ہے کہ ملک کی استحکام کیلئے کردار ادا کریں انہوں نے کہاکہ سیاسی کارکنوں کو ڈرا کر اور انہیں دھمکیاں دی جاتی ہے جس کے منفی اثرات مرتب ہونگے ،جمعیت علماء اسلام کی آزادی مارچ ملک کی استحکام اور جمہوریت کی بحالی کیلئے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر جمعیت کے کارکنوں اور قافلوں کو ہراساں یا روکنے کی کوشش کی گئی تو ہم خاموش نہیں رہیںگے ،انہوں نے کہاکہ ہم پرامن لوگ ہیں اور پرامن طریقے سے اپنا جمہوری احتجاج ریکارڈ کرارہے ہیں ملک بھر جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام15ملین مارچ منعقد کئے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جمعیت علماء اسلام پرامن سیاسی وجمہوری جماعت ہے ،شرپسندی پھیلانے اور کسی بھی طرح کے املاک کو نقصان پہنچانے والے کو گرفتار کیاجائے ۔جمعیت بھرپور ساتھ دیگی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں