ہم نے تو ایک شاہراہ میں محبت کو پرو دیا ،پاکستان نے نفرتوں کو مٹانے کی کوشش کی ہے ،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد:  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے نفرتوں کو مٹانے کی کوشش کی ہے، بھارت اگر امن چاہتا ہے تو وہ پھر کشمیر پر اپنی پالیسی تبدیل کرے،ہم نے تو ایک شاہراہ بنائی ہے جس میں محبت کو پرو دیا گیا، پاکستان کی جانب سے امن بحال کرنے کی متعدد کوششوں پر انڈیا کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہ ملا، کرتار پور راہداری کی تعمیر پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان کی جانب سے امن بحال کرنے کی متعدد کوششوں پر انڈیا کی جانب سے کوء مثبت جواب نہ ملا۔جس دن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی تو وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ آپ امن کی طرف ایک قدم اٹھائیں، ہم دو اٹھائیں گے۔ لیکن جواب کیا ملا؟ محاظ آرائی، طنزیہ جملے، اور پھر ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی۔کرتارپور راہدرای کی افادیت کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری کی طرف پیش قدمی تو پاکستان کی طرف سے تھی۔انڈیا اگر امن چاہتا ہے تو وہ پھر کشمیر پر اپنی پالیسی تبدیل کرے۔ ہمیں یہ پالیسی قبول نہیں ہے۔ انھوں نے جو اقدامات اٹھائے ہیں انھیں تو کوئی کشمیری نہیں مانتا ہے نہ پاکستان قبول کرتا ہے۔ وہ کشمیری جو آج تک رنگا اٹھاتے تھے آج وہ تیار ہیں؟ ہرگز نہیں۔ آج کوئی قابل ذکر کشمیری رہنما انڈیا کے بیانیے کے ساتھ نہیں کھڑا ہے اور یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہے۔سکھ یاتریوں سے لیے جانے والی فیس کے سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس کا مقصد مالی فائدہ اٹھانے کا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ گردوارے کی تعمیر پر اربوں روپے خرچ ہوئے اور اس کی دیکھ بھال اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے فنڈز درکار ہوں گے۔ہم تو ایک سروس فراہم کر رہے ہیں اور اس کے عوض فیس لے رہے ہیں۔ اور 20 ڈالر بھی کوئی رقم ہے؟ لوگ تو ہنسی خوشی دینے کو تیار ہیں۔ اس سے زیادہ دینے کو تیار ہیں۔ آپ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا سے آنے والے سکھوں سے رابطہ کریں۔ وہ تو یہاں پر سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں۔ بات پیسے بنانے کی نہیں ہے، معیار کو برقرار رکھنے کی ہے۔’انڈیا میں کرتارپور راہداری کے بارے میں کئی شکوک اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس کا مقصد خالصتان کی مہم کو پروان دینا ہے۔ اس بارے میں کیے گئے سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اس بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا اور نہ ہی کوئی ارادہ ہے۔وہ اپنے سائے سے گھبرانا شروع کر دیں یا ان کی نیت میں فتور ہو تو اس کا علاج پاکستان نہیں کر سکتا۔ ہم اگر اقتصادی راہداری بناتے ہیں سی پیک کی شکل میں تو اس کو کوئی اور رنگ دے دیا جاتا ہے۔ ہم اگر مذہبی زیارتوں کے لیے راہداری بنائیں تو اس پر شک و شبہ پیدا کر دیتے ہیں۔ چاہتے کیا ہیں؟۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انڈیا نے کرتار پور پر بھی بات بادل نخواستہ مانی ہے۔ہم نے تو صرف ایک آسانی پیدا کی ہے اور اس سے دنیا بھر میں موجود سب سکھ خوش ہوئے ہیں، تو اس سے آپ کو اعتراض کیا ہے؟’انھوں نے کہا کہ پاکستان نے دس پندرہ سالوں میں دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے لیکن اب دنیا واپس پاکستان کی طرف مائل ہو رہی ہے اور ان کی حکومت چاہتی ہے کہ وہ مذہبی سیاحت کو فروغ دے۔’ہم نے ویزا پالیسی میں نرمی لائی ہے۔ یہ جو ہمارے پاس گندھارا تہذیب کے آثار ہیں، سٹوپا ہیں، ہم نے بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے سیاحت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے میٹنگز بھی کی ہیں۔ ہم تو مذہبی سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں