مولانا فضل ا لرحمن بے وقت کی راگنی الاپ رہے ہیں، فردوس عاشق اعوان

لاہور: وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ مولانا فضل ا لرحمن بے وقت کی راگنی الاپ رہے ہیں، احتجاج کرنا مولانا کا حق ہے لیکن ان کا وقت ٹھیک نہیں ہے،مولانا ہوش کے ناخن لیں ،مولانا ضد، ہٹ دھرمی اور وزیر اعظم سے ذاتی عنا پر مبنی بیانیہ لیکر چل رہے ہیں ،اقتدار سے محرومی اور زاتی مفادات کی خواہش رکھنے والے مولانا کا ساتھ دے رہے ہیں۔بدھ کو اپٹما لاہورمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا صاحب انتہائی ناگواری کا شکار ہیں،مولانا صاحب مدارس کے طلبہ کو سیاسی غذا کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، پاکستان سے محبت کرنیوا لے کبھی بھی ایسے ذاتی ایجنڈے کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ عوام پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازشوں کی بجائے وزیر اعظم کے ترقی اور خوشحالی کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہوں،مولانا کے اقدام پاکستان کو سیاسی طور پر تقسیم کرینگے،اقتدار سے محرومی اور زاتی مفادات کی خواہش رکھنے والے مولانا کا ساتھ دے رہے ہیں مولانا ضد، ہٹ دھرمی اور وزیر اعظم سے ذاتی عنا پر مبنی بیانیہ لیکر چل رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے کسی ایک ادارے کو ٹارگٹ نہیں کیا،وزیر اعظم نے مجموعی طور پر کرپشن کے خلاف ایکشن کی بات کی،لوٹی ہوئی رقم کو واپس لاکر ملک کے حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ ایسے حالات میں چٹان جیسے حوصلے لیکر اپنے ارادوں پر کھڑا ہونا پڑتا ہے،وزیر اعظم نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بہتر کرنے لیے مشکلات کا تدارک کیا،پاکستان کی معیشت کا پہیہ چلنے سے مزدور کا چولہا چلتا ہے،ٹیکسٹائل انڈسٹری پاکستان کی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کاکہناتھاکہ سیاسی مورچے پر بیٹھنے مخالفین کے پانچ سال میں زیروایکسپورٹ رہی،ہماری حکومت کو چالیس ارب کا خسارہ ملا،ہماری حکومت نے درآمدات کی بجائے برآمدات کو ترجیح دی،وزیر اعظم نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی کے لیے اقدامات کیے، ایپٹما نے حکومت اور وزیر اعظم کو مایوس نہیں کیا ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ وزیر اعظم نے چائنہ کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کی ہے،ملاقاتوں میں باہمی تجارت، سی پیک کی اقتصادی ترقی اور کاروباری روابط بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان اور چائنہ کی اشتراک چٹان سے زیادہ مضبوط ہے،ملاقاتوں میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بھی بات ہوئی،چائنہ نے پاکستان کے افغانستان میں کردار پر بھی اعتماد کیا اظہار کیا ہے،سی پیک کے تحت لگنے والے انڈسٹریل زون سے ملک میں ترقی و خوشحالی آئے گی،ملک کو گلے سڑے نظام سے نجات دلانے کے لیے ریفارمز اور بڑی سرجری درکار تھی،جب اسٹیٹس کو کو چیلنج کرکہ ریفارمز لائی جاتیں ہیں تو مشکلات پیش آتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں