کشمیری خواتین سے شادی ، متنازع تبصروں کی مذمت

نئی دہلی:  بھارت میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی فیصلے کے بعد یہاں کی مقامی خواتین سے شادی سے متعلق متنازع تبصروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی کے فیصلے کے بعد بھارت کے مردوں کی جانب سے کشمیری خواتین سے شادی کرنے سے متعلق نازیبا تبصرے سامنے آنے پر سماجی حقوق کے لیے کام کرنے والوں رضاکاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز تک مقبوضہ کشمیر کے مقامی افراد، جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے، کو مختلف اقسام کے خصوصی حقوق حاصل تھے، ان حقوق میں غیر مقامی افراد کا وادی میں جائیداد نہ خریدنا، غیر مقامی افراد کو سرکاری ملازمتوں کی اجازت نہ ہونا اور غیر مقامی افراد کا یہاں کی خواتین سے شادی نہ کرنا شامل تھا۔لیکن حال ہی میں بھارتی حکومت کی جانب سے وادی کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کیے جانے کے فیصلے کے بعد بھارت کی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مقبوضہ کشمیر میں جائیدادیں حاصل کرنے ساتھ دیگر حقوق بھی حاصل ہوگئے ہیں۔بھارتی حکومت کے حالیہ اقدام کے بعد ملک میں سماجی روابط کی متعدد ویب سائٹس پر ایسی پوسٹس اور ویڈیوز شیئر کی گئی تھیں جن میں کشمیری خواتین سے شادی کی اجازت کو سراہا گیا تھا، جسے خواتین اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ایک آزاد صحافی اور رضاکار رتوپارنا چاترجی نے اس اقدام کو انتہائی نامناسب انداز قرار دیا، وہ اپنے ٹوئٹر اکاونٹ کے ذریعے جنسی ہراسانی کی کہانیاں منظر عام پر لاتی ہیں، ان کا مزید کہنا تھا صدیوں سے خواتین کا جنسی استحصال کیا جارہا ہے جبکہ کشمیری خواتین سے شادی کے حوالے سے کیے جانے والے تبصرے صرف اس حقیقت کی گواہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں