واٹس ایپ کی خطرناک خامیاں سامنے آگئیں

کیلیفورنیا(زیبائے پاکستان آئی این پی) محققین نے مقبول موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ کی بڑی خامیاں ظاہر کردیں، تجربے نے ثابت کر دیا کہ واٹس ایپ سے بھیجے گئے پیغامات کو مکمل طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ کی خطرناک خامیاں سامنے آگئیں، محققین نے مقبول موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ کے اندر ایک ایسی سیکیورٹی خامی کا پتا لگایا ہے جس کے ذریعے آپ کے بھیجے گئے میسج کے ایک ایک لفظ کو تبدیل کرکے آپ کے نام سے پھیلایا جا سکتا ہے۔چیک پوائنٹ نامی سائبر سیکیورٹی فرم کی ایک ٹیم نے تجربہ کرکے بتایا کہ ٹول واٹس ایپ کے اندر کوٹ کیے گئے میسج کو بالکل تبدیل کیا جاسکتاہے، صرف یہی نہیں اس ٹول کے ذریعے پیغام بھیجنے والے شخص کی شناخت بھی تبدیل کی جاسکتی ہے ۔واٹس ایپ بھی فیس بک کی ملکیت ہے اور ریسرچرز کے مطابق فیس بک تیکنیکی مسائل کے سبب یہ خامیاں دورنہیں کرسکتا۔یاد رہے میسجنگ موبائل ایپلی کیشن واٹس ایپ نے نیا سکیورٹی فیچر متعارف کرایا تھا ، جس کے ذریعے لوگ واٹس ایپ کو فیس آئی ڈی اور ٹچ آئی ڈی کے ذریعے لاک کرسکتے ہیں، اب اس فیچر میں ایک ایسی خامی سامنے آگئی ہے کہ صارفین پریشان ہوگئے تھے ۔رپورٹ کے مطابق اس فیچر میں خامی یہ ہے کہ واٹس ایپ کی سیٹنگز میں ایک لازمی تبدیلی کیے بغیر اگر فیس آئی ڈی اور ٹچ آئی ڈی لاک لگا بھی دئیے جائیں تو وہ کام نہیں کرتے اور کوئی بھی اس لاک کے باوجود واٹس ایپ کے نہ صرف میسج پڑھ سکتا ہے بلکہ انہیں جواب بھی دے سکتا ہے۔اس خامی کا شکار ہونے سے بچنے کے لیے صارفین کو چاہئے کہ وہ یہ لاک آن کرنے کے بعد اپنی سیٹنگز میں انٹرویل کے آپشن کو امیجیٹلی پر کردیں، بصورت دیگر آپ کا یہ لاک کسی کام کا نہیں ہوگا اور کوئی بھی آپ کے واٹس ایپ کو استعمال کرسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں