بلوچستان ہائی کورٹ نے محکمہ معدنیات میں خوردبرد کے الزام میں گرفتار ڈپٹی ڈائریکٹر محمد زمان اور امتیاز حسین کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری خارج کردی

کوئٹ:  بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پرمشتمل بینچ نے محکمہ معدنیات میں خوردبرد کے الزام میں گرفتار ڈپٹی ڈائریکٹر محمد زمان اور امتیاز حسین کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری خارج کردی ہے ۔گزشتہ روز نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر جعفر رضا نے بینچ کو بتایاکہ ملزمان کے خلاف نیب کی تحقیقاتی ٹیم کو دوران تحقیق خوردبرد کے ٹھوس شواہد ملے ہیں بلکہ کیس کی گتھیاں سلجھانے ،تحقیقات کی دائرہ کار کو بڑھانے اور نیب کے پاس موجود ناقابل تردید ثبوتوں کی روشنی میں ملزمان کا نیب کی تحویل میں ہونا ضروری ہے جس کے بعد عدالت نے دونوں ملزمان کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری خارج کردی ۔واضح رہے کہ نیب بلوچستان نے محکمہ معدنیات بلوچستان میں خوردبرد کے الزام میں محکمے کے ملازم امتیاز حسین جمالی ،ایف بی آر کے ملازم زین جبران ،کول کمپنی کے مالک عاصم اکبر خان اور بشیر محمد کو کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیاتھابلکہ نیب بلوچستان نے مسلم کول کمپنی کے خلاف تحقیقات بھی شروع کی تھی ۔نیب بلو چستان کے مطابق سرکاری اعداد وشمار کے تفصیلی جائزے کے بعد انکشاف ہواکہ مسلم کول کمپنی کے مالک عاصم اکبر خان نے محکمہ معدنیات سے لیز حاصل کئے بغیر بلوچستان کے مختلف علاقوں سے کروڑوں روپے کا کوئلہ نکال کر فروخت کیاہے جس سے قومی خزانہ کو بڑے پیمانے پر ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں