وزیر اعلی بلوچستان جام کمال کی وزارء کے ہمراہ پریس کانفرنس

وزیر اعلی بلوچستان کی وزارء کے ہمراہ پریس کانفرنس
حکومت کی کارکردگی میں ترقیاتی کام ۔قانون سازی وغیرہ اہم ہیں
صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ پی ایس ڈی پی پر عمل درامد کیا جارہا ہے
عدالتی احکامات کے مطابق پی ایس ڈی پی ہر عمل درآمد کیا جائے گا
بلوچستان ہائی نے پی ایس ڈی پی بارے اہم اقدام اٹھایا وزیر اعلیٰ
صوبائی کابینہ نے دوہزار اٹھارہ میں پی ایس ڈی پی بارے کمیٹی قائم کی
حکومت نے عدالتی احکامات کے مطابق فیصلے کیے
ان اسکیمات کو ترجیع دی جائے گی جن کا اای فیصف مکمل ہوچکا ہے
چار سو گیارہ اسمکیمات گذشتہ دا سالوں سے مکمل نہیں ہوئی
ا1515 اسکمیات جاری منصوبوں میں شامل ہیں
اٹھائیس ارب کی اسکمیات پر کام جاری ہے
حکومت تعلیم ۔صحت ۔توانائی اور امن وامان کو ترجیع دی رہی ہے
عدالت کی توجہ روڈ کے شعبے کی طرف دلائیں گے
سڑکوں کی موجودگی ترقی کیلئے ضروری ہے
پی ایس ڈی پی میں روڈ سیکٹر کا ہونا ضروری ہے
عدالت کی جانب سے دئے گئے کی سیکٹر میں شمسی توانائی اور روڈ سیکٹر موجود نہیں
حکومت کی پی ایس ڈی پی بند نہیں ہوئی
پرانی اسکمیات کا بروقت پورا نہ ہونے کی زمہ داری موجودہ حکومت کو نہ دی جائے
حکومت کے اپنے ترقیاتی منصوبے ہیں
عدالت کے ریلف نہ دینے بہت سے شعبے متاثر ہیں
موجودہ بارشوں اور برف باری کے بعد عدالت سے ریلف ملنے کی امید ہے
حکومت اپنے منصوبے کی کڑی نگرانی کررہی ہے
18 مارچ کو عدالت میں حکومت النا موقف موثر انداز میں پیش کرے گی
این ایف سی ایوارڈ کیلئے دو کمیٹیاں کام کررہی ہے
حکومت نے بہت سے اصلاِات کیں ہیں جن سے ریونیو بڑھے گا
حکومت پندرہ ارب کے بجٹ کو اس سال 25 ارب تک لی جائے گی
عدالت نے 1900 اسکمیات کو ختم کرنے کے احکامات دیئے تھے
نئی اسکمیات کیلئے منی بجٹ کی طرف جانا پڑے گا
اگر دو اسکمیات غلط ہیں تو انکی وجہ سے اٹھانوے کو بند کرنا ٹھیک نہیں
سپریم کورٹ بلوچستان کے 20 سال کی پی ایس ڈی پی پر کمیشن بٹھائے
جو افسران عدالت میں گئے ہیں انہوں نے ہی ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی
چار سو گیارہ اسکمیات پر چالیس ارب سے زائد کا خرچ ہوچکا ہے وزیر اعلی
ماضی میں جن لوگوں نے غلط کیا ا. کوسزا ملنا چائیے

اپنا تبصرہ بھیجیں